بھٹکل،16؍دسمبر (ایس او نیوز) گرام پنچایت انتخابات کے عمل میں اپنی امیدواری واپس لینے کے لئے کائکینی گرام پنچایت دفتر کے پاس پہنچنے والی درج فہرست قبیلے سے تعلق رکھنے والی جس خاتون امیدوار کا دن دہاڑے پولیس کی موجودگی میں ہی جس طرح اغوا کیاگیا تھا اس پر عوام کی تشویش ابھی ختم نہیں ہوئی ہے، مگر اس دوران اس سنسنی خیز واردات کو روکنے میں ناکام پولیس ٹیم پر عوام کی طرف سے الزام لگایا جارہا ہے کہ اب پولیس والے ثبوت بھی مٹانے کی کوشش کررہے ہیں۔
معلوم ہوا ہے کہ پیر کے دن جب پرچہ نامزدگی واپس لینے کا آخری دن تھا تو پولیس نے گرام پنچایت کے احاطے میں غیر ضروری طور پر لوگوں کو جمع ہونے سے روکنے کے لئے پورا بندوبست کرلیا تھا۔ سڑک پر ایک طرف سے رکاوٹیں بھی کھڑی کردی گئی تھیں، مگر اس کے باوجود پنچایت کمپاؤنڈ میں 25سے زیادہ افراد جمع ہوگئے تھے اور اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نکھل اور سرکل پولیس انسپکٹر دیواکرنے خود موقع پر موجود ہوتے بھی ان لوگوں کو وہاں سے ہٹانے کی کوئی کوشش نہیں کی تھی۔
خاص بات یہ ہے اس دن گرام پنچایت احاطے میں ہورہی سرگرمیوں کی ویڈیو ریکارڈنگ کے لئے مرڈیشور پولیس اسٹیشن کے ایک اہلکار کو بھی پولیس نے مقرر کررکھا تھا۔اور اس اہلکار نے اپنی ذمہ داری بھی پوری خوش اسلوبی سے ادا کرتے ہوئے امیدوار خاتون کو ایک گروہ کی طرف سے روکنے اور پھر اس کو اٹھاکر کمپاؤنڈ کی دیوار پھاندتےہوئے اپنے ساتھ کار میں ٹھونس کرلے جانے کی ریکارڈنگ بھی کرلی تھی۔لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ تمام فوٹیج مرڈیشور پولیس اسٹیشن کے کمپیوٹر میں ڈاؤن لوڈ کرنے سے پہلے ہی بھٹکل پولیس اسٹیشن کا ایک آفیسر وہ کیمرہ اپنے ساتھ لے کر چلاگیا۔ جانکاروں کا کہنا ہے کہ پنچایت دفتر کے باہر جو کچھ بھی گھٹا ہے اس میں اسی پولیس آفیسر کا بھی کردار ہے، اسی لئے کیمرے کے فوٹیج سے چھیڑ چھاڑ کرنے اور اہم منظر غائب کرنے کی نیت سے ہی وہ اپنے ساتھ کیمرہ لے گیا ہوگا۔
کیا ایک نئی سازش رچی گئی ہے؟: اس دوران خاتون امیدوار کو اغوا کرنے کی خبر عام ہونے پر ہر طرف سے اس کی مذمت ہونے لگی اور اعلیٰ پولیس افسران نے اس معاملے کی تفصیلات معلوم کرنے کی کوشش کی تو بھٹکل پولیس کی طرف سے ایک اور ایسا اقدام کیا گیا ہے جس کے پیچھے کوئی نئی سازش ہونے کی بو آ رہی ہے۔پتہ چلا ہے کہ جس خاتون کا اغوا ہوا تھا اس کورات کے وقت پولیس اسٹیشن میں طلب کرکے ایک نئی کہانی کے ساتھ اس سے شکایت درج کروائی گئی ہے کہ 3دن قبل ا س کا اغوا کیا گیا تھا۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر تین دن پہلے اس خاتون کا اغوا ہوا تھا تو کس نے کیا تھا ؟ اور پھر پنچایت دفتر کے احاطے میں پولیس افسران کے سامنے ہی اس کو زبردستی اٹھا کرجو لے جایا گیاتھا آخر وہ کیا تھا؟یہ دوسری مرتبہ جو اغوا کیا گیا تھا وہ کن لوگوں کی کارروائی تھی؟
اسی طرح لوگ یہ بھی سوال کررہے ہیں کہ اگر الیکشن کو پرامن طریقے سے انجام دینے کے لئے تعینات کیے گئے پولیس افسران یاعملے کی طرف سے امیدواروں کے اغوا جیسی کارروائیوں میں تعاون کیا جائے گا تو آگے چل کر انتخابی عمل کس درجے پر پہنچ جائے گا؟ اس کا جواب ضلع شمالی کینرا کی پولیس کو دینا ہوگا۔